سو برس بعد کی دنیاکی دوسری جھلک – 2


\"waqarمالک حقیقی ہی بہتر اور خوب جانتا ہے مگرقرائن بتاتے ہیں کہ سو سال بعد جب پہلی اور گناہ گار دنیا نظام شمسی پر اپنا سکہ جما چکی ہو گی، تب دوسری اور پارسا دنیا ماضی کی روایات کو سینے سے لگائے تاریخ کے پچھواڑے رینگ رہی ہو گی۔ وہ جدید علوم کی بنا پر خلاﺅں کو مسخر کر رہے ہوں گے اور یہ ماضی کے التباسات سے سند یافتہ احساس برتری کے سہارے خیالی فتوحات کے پھریرے لہرا رہے ہوں گے۔ جب وہ عملاً نظام شمسی عبور کر کے اگلی دنیاﺅں پر بھی اپنے جھنڈے لہرا رہے ہوں گے، تب یہ خیالوں ہی خیالوں میں جبل الطارق عبور کر کے سپین فتح کر رہے ہوں گے۔ جب پہلی دنیا اپنی سائنس اور ٹیکنالوجی کے زور پر خلا میں بستیاں بسائے گی، علم و عمل سے تہی دوسری دنیا اپنی حماقت کی طاقت سے خلائی قلعے تعمیر کرے گی۔ وہ خلائی جہازوں میں بیٹھ کر مریخ پر اپنے گھر بنانے جائیں گے اور یہ جہالت کے خچروں پر سوار پتھرکے دور کی طرح رواں دواں ہوں گے۔ وہ اپنے بچوں کو سائنس کی نئی نئی جہات سے روشناس کرائیں گے اور یہ اپنے بچوں کو سائنس پر اپنے بزرگوں کے احسانات رٹائیں گے۔ جب گمراہوں کے ناپاک پاﺅں ماہ و مشتری کی دھول اڑائیں گے، صراطِ مستقیم کے مسافروں کی زبانیں دانش کے نام پر زمین کی دھول اڑا رہی ہوں گی۔

مالک حقیقی ہی بہتر اور خوب جانتا ہے مگر قرائن بتاتے ہیں کہ سو سال بعد جب پہلی دنیا اپنی دوربینوں کی مدد سے اربوں سے بڑھ کر کھربوں سیاروں کو شمار کر رہی ہوں گی، تب دوسری دنیا اپنی خوردبینوں سے پہلی دنیا کی بن بیاہی ماﺅں کی تعداد نوٹ کر رہی ہو گی۔ وہ چاند پر آبادکاری میں مصروف \"muneeb\"\"moon-sight\"ہوں گے اور نرالی دنیا زمین پر باہم دست و گریباں ننگی آنکھ سے چاند دیکھنے کی بحث میں الجھی تین تین عیدیں کر رہی ہو گی۔ جب گناہگار زیر آب ”ببل سٹی“ تعمیر کرنے کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں اتررہے ہوں گے، نیکو کار تب بھی ”بابا آدم کی ناف تھی یا نہیں“ جیسی ”علمی بحث“ میں غوطہ زن ہوں گے۔ وہاں ذاتی زندگی

    میں عدم مداخلت اور شخصی آزادیاں عروج پر ہوں گی اور یہاں پرائیویسی پر تین حرف بھیجتے ہوئے دخل در معقولات کے ذریعے معاشرے کو سدھارنے کا خود اختیار فریضہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ انہیں پلوٹو پرزندگی کے شواہد بھی مل جائیں گے اوریہ ابھی دہشت گردی میں ملوث بیرونی ہاتھ تلاش کر رہے ہوں گے۔ پہلی دنیا اپنے ہاں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر چکی ہوگی اور نرالی دنیا ابھی دہشت گردی کے اسباب اور اس کی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی پر باہمی اختلافات کا شکار ہو گی۔

وہ موجودہ دور سے کہیں زیادہ فلک بوس عمارتوں کو حقیقت کر دکھائیں گے، یہ انہیں جہاز ٹکرا کر زمین بوس کرنے کو سچ کر دکھائیں گے۔ وہ خلا میں جانے کے لیے\"cii-sherani\" \"tahir\"کمرشل فلائٹس روانہ کریں گے یہ ان فلائٹس میں بیٹھ کر خلا سے ایک آدھ ستارہ چوری کر لائیں گے۔ اُن کے گھروں کی دیواریں ایل ای ڈی سکرینز پر مشتمل ہوں گی اور اِ ن کے گھروں کی دیواروں پر اگلی صدی میں بھی اندھیرے راج کریں گے۔ اُن کے عالم نئی نئی کہکشاﺅں کی تصاویر جاری کریں گے، اِن کے مجاہد مغویوں کو قتل کرنے کی نئی نئی تکنیکس کی ویڈیوز جاری کریں گے۔ وہ خلائی سٹیشن سے بھی زمین پر اپنے کروڑوں طالب علموں کو جدید تعلیم سے آراستہ کر رہے ہوں گے اور یہ سو سال بعد بھی مدارس کے نصاب پر اختلافات کا شکار ہوں گے۔ اُدھر جان لیوا بیماریاں جڑ سے اکھاڑ پھینکی جائیں گی، اِدھر پارسائی اور خود ستائی کے بخار کا علاج بھی ممکن نہ ہو گا۔ وہ فلاح انسانیت کے لیے اپنے اثاثے عطیہ کریں گے، یہ اپنے ”علم کے گہواروں “ کے لیے عطیات اور چرم ہائے قربانی جمع فرمایا کریں گے۔ وہ جدید روایات کے بانی کہلائیں گے، یہ اپنی ”مستحکم تہذیبی روایات “ کے دامن سے لٹک رہے ہوں گے۔ وہ علم پرستی کے داعی ہوں گے تو یہ شخصیت پرستی کے خوگر۔ وہ ووٹ کی طاقت سے اپنے کھرے اور دیانتدار حکمران منتخب کریں گے اور یہ کمر سے تیغ آبدار لٹکائے کسی نسیم حجازی کے منتظر ہوں گے۔ وہ بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کیا کریں گے اور یہ ویلنٹائن ڈے، فحاشی اور اختلاط مردوزن کے خلاف رفیع الشان جلوس نکالا کریں گے۔ وہ ہر شعبے میں اپنی عورتوں کو برابری کی سطح پر شمار کریں گے اور یہ اپنی مستورات پر تشدد کے احکامات کی تشریح کر رہے ہوں گے اور دوسروں کی بچیوں کو اغوا کر کے مالِ غنیمت کے طور پر لونڈیاں بنانے والوں کے گن گائیں گے۔ سو سال بعد جب پہلی دنیا خاموشی سے باہم متحد ہوکر اس گلوبل ویلج پر قابض ہو گی تو اس وقت نرالی دنیا اس ”ویلج“ سے دور اپنی کچی ڈھوک پر بیٹھی اتحاد اُمہ کے پھٹے ڈھول بجاتے ساری دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہی ہو گی۔

 مالک حقیقی ہی بہتر اور خوب جانتا ہے مگر قرائن بتاتے ہیں کہ سو سال بعد جب پہلی دنیا پر سچ کی مکمل حکمرانی ہو گی، دوسری دنیا جھوٹ کی راجدھانی ہو گی۔ وہاں قانون کی عملداری ہو گی، یہاں حماقتوں کی اجارہ داری ہو گی۔ وہاں اہل علم کی حکمرانی ہو گی، یہاں انگوٹھا چھاپ راج کریں گے۔ جب وہ کرپشن پروف نظام سے فیض \"suicide\"\"tahir-ashrafi\"یاب ہو رہے ہوں گے، یہ تب بھی حیا پروف نظام میں کسی پانامہ لیکس سکینڈل پر ایک دوسرے کو ننگا کر رہے ہوں گے۔ وہاں جمہوریت اور جمہوری رویے پختہ ہوں گے، یہاں ہر پنج سالے بعد نظریہ ضرورت کی زنگ آلود صندوقچی سے دیمک زدہ ”نسخہ“ برآمد ہوگا۔ وہاں متواتر انتخابات منعقد ہوا کریں گے، یہ برابر ریفرنڈم کرایا کریں گے۔ وہ جمہوری رہنماﺅں کی برسیاں منائیں گے، یہ آمروں کے عرس منائیں گے۔ وہاں منتخب عوامی نمائندوں کی چلے گی اور یہاں جعلی ڈگریوں کے سہارے دھاندلی سے برسرِ اقتدار آنے والوں کی۔ جب پہلی دنیا میں سیاحت سب سے بڑی انڈسٹری بن چکی ہو گی، یہاں سیاحوں سے نکاح نامے طلب کیے جا رہے ہوں گی۔ وہاں کی فضاﺅں میں روشنیاں پھوٹ رہی ہوں گی، یہاں بحرانوں کے اندر سے بحران پھوٹ رہے ہوں گے۔ جب ان کے ہاں کرپشن کا نشان بھی مٹ جائے گا، یہ تب بھی آف شور کمپنیوں، سرے محلوں، نیویارک اپارٹمنٹوں اور لندن اور دوبئی کے لگژری فلیٹوں کے مالکوں کو ڈھونڈ رہے \"dfp\"ہوں گے۔ وہ فطرت کی قوتوں کو زیرِ پا کریں گے، یہ مخالفین کو نیچا \"FILEدکھانے کے لیے نت نئے حربے آزمائیں گے۔ جب اول الذکر دنیا یقین کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت ثابت کر کے ہر نا ممکن کو ممکن کر دکھائے گی، تب موخرالذکر دنیا تشکیک، تذبذب، فکری الجھاﺅ، جذباتی ہیجان اور ڈھلمل یقین کی آخری حدوں کو چھو رہی ہو گی۔

رادران و ہمشیرگانِ ملت ! اگر آپ بھی ہماری طرح اس نرالی دنیا کے خیر خواہ ہیں اور اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں تو آپ کو اپنا دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں کیوںکہ ان گذارشات کاہر گز یہ مطلب نہیں کہ ایجادات پر پہلی دنیا کا اجارہ ہو گا۔ مالک حقیقی بہتر اور خوب جانتا ہے مگر قرائن بتاتے ہیں کہ سو سال بعد دوسری دنیا کے نیکو کار مائیکرو خود کش جیکٹس، پاکٹ سائز بم، جدید سکینرز کو بھی دھوکہ دے کر تباہی پھیلانے والے مہلک ہتھیار اور جدید ترین کمپیوٹرز کو بھی پچھاڑنے والے جعلی پاسپورٹس اور ویزے ایجاد کر کے پہلی دنیا کو ناکوں چنے چبوا دیں گے۔


سو برس بعد کی دنیا کی ایک جھلک – 1
Facebook Comments HS